April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
صورة لبول ألكسندر تداولتها شبكات التواصل الاجتماعي

ولیو کا شکار ہونے کے بعد لوہے کی پھیپھڑوں کی مشین کے اندر 70 سال تک رہنے کے بعد امریکی پال الیگزینڈر 78 سال کی عمر میں ٹیکساس میں انتقال کرگئے۔

یہ بات منگل کے روز ان کے بھائی فلپ کی جانب سے فیس بک پر لکھی گئی ایک پوسٹ میں سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا کہ “یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں کسی ایسے شخص کی زندگی کا حصہ بنوں جس سے اس کے جیسا پیار کیا جاتا تھا۔ اس نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے”۔

اس مشہور آدمی کے بارےمیں ہم کیا جانتےہیں؟

چھ سال کی عمر میں کیا ہوا؟

پال رچرڈ الیگزینڈر 1946ء میں پیدا ہوا اور اپنے دو بھائیوں نک اور فلپ کے ساتھ ڈیلاس کے ایک پرسکون مضافاتی علاقے میں پلا بڑھا۔

لیکن 1952ء میں جب وہ 6 سال کا تھا اسے ایک لوہے کے سلنڈر کے اندر جکڑ دیا گیا جس نے پورے جسم کو ڈھانپ لیا تھا۔اسے لوہے کے پھیپھڑوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ پولیو کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ ایک مہلک بیماری تھی جس کی وجہ سے پچھلے سالوں میں اوسطا سالانہ دس ہزار بچے مفلوج ہو رہے تھے۔

لوہے کا پھیپھڑا ہوا کو پھیپھڑوں میں دھکیلنے کی خاطردباؤ کے لیے استعمال کرتا۔

ماں نے اسے گھر میں پڑھایا

برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ کے مطابق اس کی والدہ نے اسے گھر میں پڑھایا اور وہ ذاتی طور پر کلاسوں میں شرکت کیے بغیر ڈیلاس کے ہائی اسکول سے گریجویشن کرنے والا پہلا طالب علم تھا۔

وہ اپنی وہیل چیئر پر اپنے دوستوں کے ساتھ مقامی سینما اور ریستوراں بھی جاتا اور اپنے خاندان کے چرچ بھی گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *