April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
+º¦î+¦+º+å¦î +å+º+ª+¿ +å¦î+ü +¼+¦+¦+¦ +à+¡+à+» +à+¦+»+é +å¦Æ +º+¦+¬+¦+ü¦î +»¦î+»¦î+º

ایرانی عدلیہ کے پہلے نائب سربراہ محمد مصدق نے کہا ہے انہوں نے اپنے دو بیٹوں کے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ہونے کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں بیٹوں پر مجاز حکام کی طرف سے مقدمہ چل رہا ہے۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ نیوز ایجنسی ’’میزان‘‘ نے بتایا کہ عدالتی سربراہ غلام حسین محسنی ایجی نے اپنے نائب کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ مصدق کے دو بیٹوں پر اس وقت معاشی جرائم کے لیے مجاز عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اقتصادی جرائم کے اس مقدمہ میں اثر و رسوخ کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک بنانے کے الزامات ہیں۔

مصدق نے اپنے استعفیٰ کے لیٹر میں اپنے دو بیٹوں کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں اثر و رسوخ کے شبہ کو روکنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ مصدق کو 13 جولائی 2021 کو عدلیہ کے پہلے نائب سربراہ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ انتظامی عدالت کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں اس عہدے پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تعینات کیا تھا۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے اپنے نائب کا استعفیٰ منظور کیا تو انہوں نے لکھا کہ اگرچہ اس عہدے پر آپ کی موجودگی کا مذکورہ مسئلے سے نمٹنے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن آپ کی درخواست اور آپ کے اٹھائے گئے نکات کی بنیاد پر آپ کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے۔ اب تک محمد صادق مصدق اور امیر حسین مصدق کے مقدمے کے تین سیشنز منعقد ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *