April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
People attend a rally to highlight Islamophobia, sponsored by the Muslim Association of Canada, including the June 6 in London, Ontario attack which killed a Muslim family in what police describe as a hate-motivated crime, in Toronto, Ontario, Canada June 18, 2021. REUTERS/Alex Filipe

برطانیہ نے مسلم دشمنی کے واقعات میں اضافے کے باعث مسلمانوں کے مراکز کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے 177 ملین پاؤنڈز کی اضافی رقم کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی حکومت کی طرف سے یہ اعلان اتوار کے روز کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد برطانوی مسلمانوں کے خلاف بڑھنے والی نفرت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

حکومتی جائزوں اور رپورٹس کی بنیاد پر مسلمانوں کے مراکز کی حفاظت کے لیے یہ اضافہ اگلے چار برسوں تک بروئے کار رہے گا اس رقم مسلمانوں کی اسلامی مراکز ، مساجد اور کمیونٹی سنٹرز کی کا تحفظ بہتر کیا جائے گا۔ گویا یہ نفرتی لہر کئی سال چل سکتی ہے۔

برطانیہ کے محکمہ داخلہ کے مطابق اس اضافے کی ضرورت سات اکتو بر کے بعد پیدا شدہ صورت حال کے باعث کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

واضح رہے ایک عرصے تک مغربی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ‘ اسلامو فوبیا ‘ کا ملفوف سا نام دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب بڑھے ہوئے نفرتی واقعات کے سبب یہود دشمنی کی طرح عوامی سطح پر مسلم دشمنی اور اسلام دشمنی کے الفاظ بھی استعمال ہونے لگے ہیں ، تاہم ابھی حکومتی سطح پر اور میڈیا میں اس کھلے اظہار سے گریز کیا جاتا ہے۔

محکمہ داخلہ کے سیکرٹری جیمز کلیورلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم مخالف نفرت کے لیے ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ تاہم کئی دہائیوں میں مغربی دنیا میں مسلمانوں کی جو تصویر پیش کی جاتی رہی ہے اس کا فطری نتیجہ نفرت میں اضافہ ہی بننا تھا۔

ان کا کہنا تھا ‘مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات کو ہم برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف بدسلوکی کے جواز کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیں گے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *