April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، برطانیہ میں شاہی خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، خاص طور پر ویلز کی شہزادی کیٹ مڈلٹن کے بارے میں بہت سی افواہیں پھیلی اور پھیلائی جارہی ہیں۔

ان افواہوں میں “برطانیہ کے سر نگوں پرچم کی تصویر” اور بی بی سی کے مرکزی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے شاہی خاندان کے بارے میں متوقع خبروں کے حوالے سے اپنے لوگو کو سیاہ رنگ میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ کیٹ مڈلٹن کی بیماری کے بارے میں ابہام اور موت کے بارے میں خبریں بھی شامل تھیں۔ انہی میں شاہی جوڑے کے درمیان علاحدگی اور شہزادے کی طرف سے مبینہ دھوکہ دہی کا حوالہ دیا گیا۔

تاہم معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ مبینہ خبریں، تصاویر اور ٹویٹس مکمل طور پر بے بنیاد افواہوں کے سوا کچھ نہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سرنگوں پرچم کی تصویر 2022 میں ملکہ الزبتھ کی وفات پر ترکی کے شہر انقرہ میں برطانوی سفارت خانے پر آویزاں جھنڈے کی تھی۔

کیٹ مڈلٹن کی موت کی افواہ سراسر غلط ہے، کیونکہ اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، اس کے برعکس ان کی صحت کی حالت میں بہتری کے حوالے سے تسلی بخش بیانات جاری کیے گئے ہیں۔

جہاں تک پرنس ولیم کے دھوکہ دہی کا تعلق ہے، ان افواہوں کی تصدیق کے لیے ابھی تک کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جنوری میں شاہی محل نے اعلان کیا تھا کہ طبی ماہرین نے شہزادی کو پیٹ کی سرجری کروانے کا مشورہ دیا ہے اور بعض نے اسے ایک مشکل آپریشن قرار دیا تھا۔ 16 جنوری کو سرجری کامیابی سے کی گئی۔ کینسنگٹن پیلس نے اعلان کیا کہ کیٹ 31 مارچ کو ایسٹر تک اپنے کام اور شاہی فرائض پر واپس نہیں آئیں گی۔

تصویر کا تنازعہ

خیال رہے کہ چند روز قبل کیٹ نے ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بچوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر جاری کی تھی۔بڑی خبر رساں ایجنسیوں نے اس تصویر میں فوٹو شاپ تبدیلی کی وجہ سے اس تصویر کی اشاعت کو روک دیا تھا۔ تاہم، شہزادی کیٹ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے فوٹو ایڈیٹنگ پروگرام کا استعمال کرتے ہوئے خود کچھ تبدیلیاں کیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *