April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
An Israeli navy missile boat patrols in the Red Sea off the coast of Israel's southern port city of Eliat on December 26, 2023. (AFP)

اتوار کو 14,500 کے قریب مویشی دوسری بار آسٹریلیا سے اسرائیل روانہ ہوئے جن کا پہلا بحری سفر دو ماہ قبل بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملے کے خطرے کے پیشِ نظر روک دیا گیا تھا۔

یہ جانور 5 جنوری کو پرتھ کی فریمینٹل بندرگاہ سے روانہ ہوئے تھے لیکن شرقِ اوسط کی طرف آدھے راستے میں ان کے جہاز نے اپنا راستہ ترک کر دیا اور آسٹریلیا کی حکومت نے اسے گھر واپس آنے کا حکم دے دیا۔

یہ واپسی فلسطینی گروپ حماس کی حمایت میں ہونے والے حوثی حملوں سے آنے والی تباہی کا ایک حصہ تھی جس نے جہاز بھیجنے والوں کو جنوبی افریقہ کے ارد گرد ایک نئے طویل اور زیادہ مہنگے سفر پر مجبور کیا ہے۔

مویشیوں نے بحری جہاز پر اور فروری کے وسط میں جہاز سے اترنے کے بعد سے زمینی سہولیات میں کئی ہفتوں تک ایک طویل اور غیر یقینی انتظار برداشت کیا جہاں آسٹریلیا کے بائیو سکیورٹی قوانین کے مطابق انہیں قرنطینہ میں رکھنا ضروری ہے۔

کارکنان اور کچھ سیاست دانوں نے جانوروں کے ساتھ سلوک کو تشدد قرار دیا اور زندہ بھیڑوں کی تجارت کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن حکومت اور صنعت نے کہا ہے کہ ان کی حالت اور صحت اچھی ہے۔

وزارتِ زراعت نے فروری کے وسط میں کہا تھا کہ 5 جنوری کو روانہ ہونے کے بعد سے بحری جہاز بہیجہ پر چار مویشی اور 64 بھیڑیں مر گئی تھیں لیکن یہ اموات کی قابلِ اطلاع سطح سے کم تھیں۔

فارم گروپ ڈبلیو اے ایف فارمرز کے لائیو سٹاک کے سربراہ جیوف پیئرسن نے کہا کہ مویشیوں کو اسی بحری جہاز ایم وی بہیجہ پر ہفتے کے آخر میں لادا گیا تھا جس پر وہ پہلی بار گئے تھے اور اتوار کو وہ فریمنٹل سے روانہ ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جہاز میں تقریباً 14,000 بھیڑیں اور 500 مویشی سوار تھے اور بقیہ مویشیوں کو آئندہ ہفتوں میں دیگر بحری جہازوں پر برآمد کیا جائے گا۔

وزارتِ زراعت نے کہا کہ اس نے کھیپ کی منظوری دے دی تھی۔

اس نے ایک بیان میں کہا، “برآمد کنندہ بحیرۂ احمر سے گذرے بغیر مویشیوں کو اسرائیل پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔”

صنعت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ افریقہ کے ارد گرد آسٹریلیا سے اسرائیل تک کے راستے میں تقریباً 33 دن لگتے ہیں۔

رائٹرز برآمد کنندہ باسم دبہ سے رابطہ کرنے سے قاصر ہے۔ کورکیرا شپنگ کمپنی کے بحری جہاز کے مینیجر نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *