April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A German flag flutters in front of the Reichstag building in Berlin, Germany, September 6, 2020. Letters read To the German people. Picture taken September 6, 2020. REUTERS/Joachim Herrmann

اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے جمعہ کو کہا کہ نکاراگوا نے عالمی عدالتِ انصاف میں جرمنی کے خلاف اسرائیل کو مالی اور فوجی امداد دینے اور اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کی امداد روکنے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

نکاراگوا نے آئی سی جے جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، سے کہا کہ وہ ہنگامی اقدامات (کا حکم) جاری کرے جس سے برلن کو اسرائیل کے لیے فوجی امداد دینے سے روکا جائے۔ عدالت عام طور پر کیس دائر ہونے کے ہفتوں کے اندر کسی بھی درخواست کردہ ہنگامی اقدامات پر سماعت کے لیے ایک تاریخ مقرر کرتی ہے۔

نکاراگوا کے دعوے کے مطابق جرمنی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی قوانین سے متعلق 1948 کے نسل کشی کنونشن اور 1949 کے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یہ اس مقدمے پر مبنی ہے جوغزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مبینہ طور پر نسل کشی کے ارتکاب کے الزام میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف دائر کیا ہے۔

گذشتہ ماہ آئی سی جے نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ کے دعوے کہ اسرائیل نے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے، ناقابلِ فہم نہیں ہیں اور ہنگامی اقدامات کا حکم دیا جس میں اسرائیل سے غزہ میں نسل کشی کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کو روکنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

نسل کشی کے معاہدے کے تحت ممالک نہ صرف نسل کشی کا ارتکاب نہ کرنے بلکہ کسی بھی ممکنہ نسل کشی کو روکنے اور سزا دینے پر بھی متفق ہیں۔ اس سے نسل کشی میں ملوث ہونا/تعاون کرنا اور نسل کشی کی کوشش کرنا بھی معاہدے کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے۔

امریکہ کے ساتھ جرمنی اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *