April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

تھامس گریج کو سزائے موت دینے کی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب انجکشن لگانے کے لیے شریان تلاش نہ ہوسکی اور پھر قیدی کو واپس اس کے سیل میں بھیج دیا گیا۔ یہ کوشش اس سے پہلے بھی کم از کم 8 مرتبہ ناکام ہوچکی ہے۔

73 سالہ تھامس 1974 سے سیریل کلر کے طور پر جیل میں بند ہے۔ امریکی ریاست آئیدھو میں ڈیپارٹمنٹ برائے اصلاح کے ڈائریکٹر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تھامس کو سزائے موت کا انجکشن لگانے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک کوشش کی جاتی رہی کہ اس کے مختلف اعضاء میں شریان کی تلاش کر کے مہلک ٹیکہ لگایا جا سکے تاکہ اس کو موت کی سزا مل سکے۔ یہ اقدام امریکی سپریم کورٹ میں اپیل مسترد ہونے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔

سزایافتہ گریج نے اپیل کی تھی کہ اس کے سزائے موت کے فیصلے کو روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ گریج کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ بہت سارے امریکی ریاستوں میں اب موت کی سزا نہیں دی جاتی اور آئین میں سزائے موت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اس لیے گریج کو سزائے موت دینا غیر آئینی ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس استدلال کو مسترد کر دیا۔

اہم بات ہے کہ بہت ساری امریکی ریاستوں میں بوڑھے قیدیوں اور بھاری بھرکم قیدیوں کی بھی شریانوں کی تلاش میں دقت پیش آتی ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں سزائے موت دینے کے لیے زہریلا انجیکشن نہیں لگایا جاتا۔ اس لیے پرانے قانون ساز چاہتے ہیں کہ سزائے موت دینے کے لیے پرانے طریقے ہی بحال کیے جائیں کہ اسے فائرنگ کرنے والے دستے کے سامنے کھڑا کر کے گولی مار دی جائے یا نئے طریقے ایجاد کیے جائیں۔ جیسا کہ پچھلے ماہ قیدی کو ہلاک کرنے کے لیے نائٹروجن کا استعمال کیا گیا تھا۔

خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ قیدی تھامس گریج کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے جاری کیا گیا ڈیتھ وارنٹ زائد المیعاد ہو سکتا ہے۔ تاہم جووش ٹیو والٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابھی اندازہ نہیں ہے کہ ریاست کی طرف سے اس کے نئے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے جائیں گے یا نہیں اور اگر جاری کیے جائیں گے تو کب جاری کیے جائیں گی۔

خیال رہے تھامس گریج نے 1970 میں پانچ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ جس پر عدالت نے اسے جیل بھیجا اور سزائے موت سنائی۔ جیل میں اس نے ایک اور قیدی کو قتل کر دیا، جس کا نام ڈیوڈ جینسن تھا۔ بعد ازاں گریج کو سخت حفاظتی ماحول میں رکھا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *