April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
An aircraft takes off to join the U.S.-led coalition to conduct air strikes against military targets in Yemen, January 12, 2024. (File photo: Reuters)

ینٹا گون نے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں شروع کیے گئے حملوں کے بعد اب تک یمن پر حملے کر کے مجموعی طور پر ح230 حوثی مراکز کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ بات پینٹا گون کے حکام نے بتائی ہے۔ اب تک حوثیوں پر امریکی حملوں کے حوالے سے سب سے مستند اعدادو شمار سمجھے جا سکتے ہیں۔ کہ یہ امریکہ نے خود جمع کیے ہیں۔

پچھلے ماہ امریکہ نے ایران سے حوثیوں کے لیے اسلحہ لے جانے والے ایک جہاز کو روک دیا تھا۔ اس ایرانی اسلحے میں درون طیاروں کے پرزے، ٹینک شکن میزائل اور دیگر مہلک ہتھیار شامل تھے۔ یہ بات نائب معاون وزیر دفاع ڈینئیل شاپیروسینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی کو منگل کے روز بتائی ہے۔

ان کا کمیٹی کے سامنے کہنا تھا’ ایران کی طرف سے حوثیوں کو اسلحہ دینے کی یہ کوشش بین الاقوامی قانون کی ایک کھلی خلاف ورزی تھی۔ کمیٹی کو بتایا گیا امریکی حملوں کے دوران حوثیوں کے سینکڑوں ہتھیار تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم لگتا ہے کہ ابھی یہ گروپ اپنے بقیہ ہتھیاروں کے ساتھ بحیرہ احمر میں حملے کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔’

امریکی حکام کی طرف سے کانگریس میں یمن تنازعے کے لیے امریکی ایلچی شاپیرو اور ڈم لینڈر کنگ کی برفینگ کی صورت میں پہلی گواہی تھی۔ واجح رہے امریکی صدر جوبائیڈن نے پچھلے ماہ حوثیوں پر حملوں کا حکم دیا تھا تاکہ ان کی بحیرہ احمر میں حملے کرنے کی صلاحیت پر ضرب لگائی جا سکے اور بحری جہازوں کے لیے خطرہ نہ رہیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک تازہ ترین کارروائی کے بارے میں بتایا ہے کہ امریکی طیارے اور اتحادیوں کے بحری جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس ڈرون کو مار گرانے کا واقعہ منگل کی رات 9 بجکر 50 منٹ اور 10 بجکر 50 منٹ کے درمیانی وقت میں ہوا ہے۔ سینیٹ کام کی طرف سے ڈرون کو مار گرانے کو ‘ ایکس ‘ پر بتایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *