April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
FILE PHOTO: Protestors rally for a cease fire in Gaza outside a UAW union hall during a visit by U.S. President Joe Biden in Warren, Michigan, U.S. February 1, 2024. REUTERS/Rebecca Cook/File Photo

امریکی ریاست مشی گن صدر جوبائیڈن کے لیے منگل کے روز ہونےوالی ابتدائی ووٹنگ کے حوالے سے ایک مشکل ریاست بنتی نظر آرہی ہے۔ اس کیا سبب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے لیے جوبائیڈن انتظامئیہ کے پالیسی بن گئی ہے۔ 2020 کے صدارتی انتخاب کے دوران بھی اس ریاست سے جوبائیڈن کی ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل برتری بہت زیادہ نہیں تھی۔

یہی چیز جوبائیڈن کے اس ریاست سے اس بار انتخاب کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے حوالے سے پالیسی پر یہاں کے ڈیمو کریٹس میں اور خصوصا عرب امریکیوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ صدر جوبائیڈن جنیہیں دوسری بار صدراتی انتخاب میں منظوری لینے کے لیے اگرچہ کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے مگر مشی گن میں مشکلات کا خطرہ موجود ہے۔

کیونکہ غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا گراف جوں جوں اوپر جا رہا ہے مشن گن کے عرب امریکیوں میں حمایت کو کم کررہا ہے۔ 2020 کا ووٹوں کا صرف 150000 کا فرق، اس وجہ سے مزید کم ہو سکتا ہے۔ اس وسطی مغربی کے میدان میں سرگرم کارکن چاہتے ہیں کہ مشی گن کے رہنےوالے احتجاج کے طور پر جوبائیڈن کو ‘ غیر پابند ‘ ووٹ دیں تاکہ جوبائیڈن پر اسرائیل سے متعلق پالیسی کے سبب دباؤ ڈالا جا سکے اور انہین فوری جنگ بندی کے لیے مجبور کریں۔

جیسا کہ کچھ اثر محسوس بھی ہو رہا ہے کہ آٹھ دس دن قبل امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرار دادا کو ویٹو کیا ہے ۔مگر اب یکا یک امریکی حکام جنگ بندی کے لیے بہت سرعت دکھا رہے ہیں۔ خود صدر جوبائیڈن بھی جنگ بندی کی ‘ خوشخبری’ سنانے لگے ہیں۔

صدر جوبائیڈ نے یہاں مشی گن میں اس خاندان کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے ہیں جن کے افراد پر بمباری ہوئی ہے۔ ‘ مشی گن سنو ‘ نام سے مہم چلانےوالی لیلیٰ الابڈ نے اس سلسلے میں کہا ‘جن لوگوں نے جوبائیڈن کو ووٹ دیا تھا اور اب سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔’

ان کے اس احساس کو اس وقت اور بھی تقویت ملتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کی وائٹ ہاؤس سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ جوبائیڈن نیتن یاہو کے رویے سے مایوس ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی ، امریکہ جنگ بندی کی قرار داد بھی ویٹو کرتا ہے، جنگ بندی کے لیے کوششوں کی ‘ خوشخبری ‘ بھی سنائی جاتی ہے اور اسرائیل کو جنگی اسلحے کی فراہمی کا بہاؤ بھی جاری رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حسی کا پیغام ہے جو وائٹ ہاؤس سے ملتا ہے۔

لیلیٰ کے بقول اس گروپ کا مقصد یہ ہے کہ دس ہزار ‘ غیر پابند ‘ ووتوں کو سامنے لائے اور جوبائیڈن کو ایک سخت اور واجح پیغام دیا جائے کہ اسرائیلی جنگ کی مالی مدد ڈیموکریٹ رویایات کے خلاف ہے۔’ ان کا کہنا ہے ٹرمپ اور ہلیری کے 2016 کے صدارتی انتخاب کے دنوں میں دس ہزار ووٹوں کو ہی فرق تھا۔

امریکی صدر جوبائیڈ ان دنوں نامزدگی کے لیے امریکہ میں ریاستوں کے سفر پر ہیں۔ لیکن انہیں حالیہ دنوں میں مشی گن سے مسلسل منفی خبریں پہنچی ہیں۔ نیو ہیمپشائر کی طرح جنگ بندی کے لیے تحریری مہم کسی اور شہر میں نہیں سامنے ائی ۔ تاہم اس میں مشی گن کے عوام سرگرمی سے شریک ہوئے ہیں۔

عبداللہ حماد کہتے ہیں ‘غزہ پر گرنے والے بموں پر امریکی ساختہ لکھا ہونا اس بے حسی کا ایک نمونہ ہے۔ ‘واضح رہے اب تو امریکی ائیر فورس کے ایک 25 سالہ ائیر مین نے غزہ پر بمباری کرکے نسل کشی کا حسہ بننے سے بچنے کے اتوار کے روا واشنگٹن میں خود کشی بھی کر لی ہے۔ یقیناً امریکی ائیر مین کی یہ جل چکی لاش سے اٹھنے والا دھواں جلدی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گا۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ابتدائی ووٹنگ والی ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے انہیں توقع نہیں کہ یہاں ان کے لیے مشکل ہو گی۔ ٹرمپ تو اپنی پارٹی مین اپنی حریف نکی ہیلی کو اس کی اپنی ریاست میں بھی شکست دے چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *