April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

حاضر سروس فوجی ہسپتال میں جانبر نہ رہ سکا

The Israeli flag flies at half-staff in memory of former Israeli President and Prime Minister Shimon Peres at the Israeli Embassy in Washington, U.S., September 30, 2016. REUTERS/Gary Cameron

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں بمباری کا مزید حصہ بننے سے انکاری امریکی فضائیہ کے حاضر ڈیوٹی ‘ائیر مین’ نے احتجاجاً اسرائیلی سفارت خانے کے باہر خود سوزی کرلی۔ خود سوزی کرنے والے نے جاتے جاتے بتایا ہے کہ ‘میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مزید حصہ نہیں بن سکتا۔’

کیا امریکی فضائیہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں براہ راست بھی شریک ہے ؟ اس امریکی ائیر مین کا احتجاجاً خود سوزی کرنا محض ایک احتجاج ہے یا ایک گواہی بھی؟ نیز کیا امریکی فضائی براہ راست غزہ پر بمباری میں شریک رہی ہے یا اب شریک نہیں ہے؟

کیا اس امریکی فوجی اہلکار کی خود سوزی جوبائیڈن انتظامیہ کی غزہ پالیسی اور جو بائیڈن کی انتخابی مہم کو بھی متاثر کر سکتی ہی؟ خود سوزی کرنے والے امریکہ فضائیہ کے اہلکار نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

25 سالہ امریکی ائیرمین ایرون بش نیل نے خود سوزی واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے سامنے جا کر کی ہے۔ وہ ٹیکساس کا رہنے والا تھا ۔جو خود سوزی کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے پیر کے روز اس کی موت کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

خود سوزی کرنے والے امریکی فضائیہ کے ائیرمین نے اتوار کے روز خود سوزی کی تھی۔ یہ اتوار کے دن ایک بجے دوپہر کا وقت تھا۔ جب اس فلسطینیوں کی نسل کشی سے دلبرداشتہ امریکی فوجی نے سفارت خانے کے باہر پہلے لائیو سٹریمنگ کی اور پھر اپنا موبائیل فون نیچے رکھتے ہوئے خود کو آگ لگا لی۔ یہ بات اس بارے میں حالات سے آگاہ ایک فرد نے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو بتایا ہے۔

بعد ازاں قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے بھی اس امریکی فوجی کی خود سوزی سے پہلے لائیو سٹریمنگ کی تصدیق کی ہے۔ تحقیقات کرنےوالوں کے مطابق اس نے ایک ہی بات کی ‘ اب میں نسل کشی میں ملوث نہیں ہو ںگا۔’ اس خود سوزی کے بعد اس کی ویڈیو کو سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم نے ہٹا دیا ، مگرقانون نافذ کرنے والے حکام نے اس ویڈیو کی کاپی حاصل کرلی ہے۔

تحقیقات سے متعلق ایک ذمہ دار نے کہا وہ اس معاملے کا بر سر عام ذکر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تاہم پیر کے روز امریکی ائیر فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس شخص نے ایک روز پہلے خود سوزی کی کوشش کی اور رات کے وقت وہ چل بسا ۔ یہ بیان جاری کر کے اس کے فضائیہ کے اہلکار ہونے کو تسلیم کر لیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکہ میں یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنی کابینہ سے جنوبی غزہ کے سرحدی شہر رفح میں منظم اور بھر پور جنگی یلغار کی منظور کے لیے بات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عبوری جنگ بندی کے لیے بات چیت بھی جاری ہے۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر ہر طرف سے تنقید جاری ہے۔ امریکہ سمیت یورپی ملکوں میں بھی سخت احتجاج کیا گیا ہے، مگر اسرائیل فلسطینیوں نسل کشی کا انکار کرتا ہے۔

خیال رہے غزہ میں اب تک 30 ہزار فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں اور 23 لاکھ اسی بمباری سے بے گھر ہو چکے ہیں جس بمباری کتے کرنے سے بچنے کی کوشش میں ایک امریکی ائیر مین نے اپنی جان دے دی ہے۔ یہ واقعہ سیدھا سیدھا اسرائیل کی غزہ میں جنگ اور امریکہ کی اس بارے میں پالیسی پر ایک فوجی کا خود کش حملہ بن گیا ہے۔

امریکہ میں ایک بار پہلے ماہ دسمبر میں بھی ایک شہری نے اسرائیلی قونصل خانے کے باہر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگائی تھی۔ جائے خود سوزی یعنی اٹلانٹا میں قائم اسرائیلی قونصل ؑخانے باہر سے سے فلسطنی پرچم بھی ملا تھا۔ اس کے اس اقدام کوانتہائی سیاسی احتجاج کا نام دیا گیا تھا، مگر اب کی بارقطعاً سیاسی احتجاج نہیں انسان دوستی کے جذبے نے اس ائیرمین کو خود سوزی پر مجبور کیا کہ وہ غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ ہاں اسے امریکی پالیسی کے خلاف احتجاج ضرو کہا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *