April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A symbolic illumination called “Ray of Memory” is seen over the graves of Ukrainian soldiers, who died in the war with Russia, at Lychakiv Cemetery in Lviv on February 23, 2024, on the second anniversary of Russia’s invasion of Ukraine. (AFP)

چوبیس فروری یوکرین پر روسی حملے کے دو سال مکمل ہونے کا دن تھا۔ اس روز یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلیے کینیڈا کے وزیر اعظم سمیت کئی یورپی ملکوں کے وزرائے اعظم اور یورپی کمیشن کی سربراہ یوکرین پہنچی ہیں۔

ان رہنماؤں میں شامل اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اور بیلجئیم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو اور یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین بذریعہ ٹرین پولینڈ سے رات بھر سفر کر کے یوکرین پہنچے۔

واضح رہے یوکرین کی جنگ میں روسی فوج کے ہاتھوں دو برسوں میں فوجیوں سمیت کل ساڑھے دس ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ جانی نقصان یورپی ملکوں کے لیے غیر معمولی ہے ۔ اس سے زیادہ اہمیت یوکرین کی تزویراتی ہے۔ اس لیے جنگی صورتحال کے باوجود یہ رہنما یوکرینی دارالحکومت کیف پہنچے ہیں۔

بد قسمتی سے غزہ میں ساڑھے چار ماہ کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتیں یوکرینی ہلاکتوں سے تین گنا زیادہ یعنی تقریباً 30 ہزار ہو چکی ہیں۔ جبکہ غزہ میں شہری انفراسٹرکچرکی تباہی تو ایک طرف پورا غزہ ہی اسرائیل نےتباہ کر دیا گیا ہے اور 23 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر کر دیے گئے ہیں۔ لیکن یورپی رہنماؤں کا یوکرینیوں کے لیے جذبہ اخوت زندہ ہے۔

یوکرین کے عوام کے لیے ان رہنماؤں نے کیف میں اس موقع پر اپنی موجودگی اور اظہار یکجہتی کو مکمل ساتھ دینے کے لیے ڈیزائن کیا ۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی یوکرین کے لیے امداد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی پشت پناہی پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔

یوکرینی عوام کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یورپی کمیشن کی خاتون سربراہ نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ‘ ایکس’ پر یہ لکھا ہے ہم ‘ یوکرینی عوام کی غیر معمولی مزاحمت کا جشن منانے کے لیے’ آئے ہیں۔

ارسولا وان ڈیر لیین نے یہ بھی لکھا’پہلے سے ہم یوکرین کے ساتھ زیادہ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مالی طور پر، عسکری طور پر، اخلاقی طور پر، ہم اس وقت ساتھ دیں گے جب تک یوکرین آزاد نہیں ہو جاتا۔’

ایک فائر فائٹر 14 فروری 2024 کو یوکرین کے ڈونیٹسک کے علاقے سیلڈوف میں روسی میزائل حملے میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارت کے مقام پر کام کر رہا ہے۔ (رائٹرز)

ایک فائر فائٹر 14 فروری 2024 کو یوکرین کے ڈونیٹسک کے علاقے سیلڈوف میں روسی میزائل حملے میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارت کے مقام پر کام کر رہا ہے۔ (رائٹرز)

دوسری جانب اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ وہ یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے ساتھ سیکیورٹی معاہدوں پر دستخط کرکے اپنی آمد کو مزید بامعنی بنانےکا طے کر کے آئے تھے۔ یوکرین نے حال ہی میں فرانس اور جرمنی کے ساتھ بھی اربوں ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

یہ یوکرین کے لیے اور بھی ضروری ہو گیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اعلان کردہ اکسٹھ ارب ڈالر کی امداد کانگریس میں ریپبلکنز نے روک دی ہے، جس سے کیف کی بہت بڑی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور روس کو پیچھے دھکیلنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

امکانی طور پر اسی ہفتے کے اختتام تک گروپ 7 کے اجلاس میں یوکرینی صدر اپنا موقف اور ضروریات بیان کر سکیں گے۔ اس اجلاس کے لیے صدر زیلنسکی کو بطور خاص دعوت دی گئی ہے۔ گروپ 7 کے اجلاس کی صدارت اٹلی کی وزیر اعظم میلونی کریں گی اور اس میں جوبائیڈن ویڈیو لنک پر شریک ہوں گے۔

گروپ 7کے اجلاس میں یوکرین پر روسی حملہ بطور خاص اہم ایجنڈا ہو گا۔ کیونکہ جنگ کا تیسرا سال شروع ہوتے ہوئے یوکرین کی روس کے خلاف مزاحمت متاثر ہو رہی ہے۔ جو سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی اہمیت کے کہیں زیادہ ہونے کی وجہ سے یوکرینی صدر نے بھی باور کر دیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر فتح پالی تو پھر روس صرف یوکرین تک نہیں رکے گا بلکہ آگے بڑھےگا۔

یہ بات یورپی ممالک کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ یورپی ممالک اس روسی حملے کو پسپا کرنا ضروری قرار دیتےہیں جبکہ روس یورین کے دعوے کو ایک بکواس قرار دیتا ہے۔ جنگ کے دوسال مکمل ہونے پر یوکرین میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ تاکہ عوامی جوش و جذبے اور حوصلے کو کھڑا رکھا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *