April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A police officer stands near police tape in Tullinge in Botkyrka, near Stockholm, Sweden, where a shooting took place, according to local media, October 13, 2023. Magnus Lejhall/TT News Agency/via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. SWEDEN OUT. NO COMMERCIAL OR EDITORIAL SALES IN SWEDEN.

سویڈش پولیس نے کہا ہے کہ ملک میں تقریباً 62,000 افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں سرگرم ہیں یا ان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پولیس تشدد پر قابو پانے کے لیے برسوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔

10 ملین کی آبادی والے ملک میں پچھلی دہائی کے دوران فائرنگ کے واقعات کی تعداد میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس وقت پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ جرائم کی سطح کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

نیشنل پولیس کمشنر پیٹرا لنڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ “ہم نے مجرمانہ نیٹ ورکس میں سرگرم 14,000 لوگوں کی نشاندہی کی ہے۔ جہاں تک ان نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے، ہمارا اندازہ ہے کہ ان کی تعداد 48,000 تک ہے”۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 2023ء میں اگرچہ مہلک فائرنگ کی تعداد میں قدرے کمی آئے گی، لیکن ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سویڈن میں ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈ کی مشترکہ فائرنگ سے نو گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں”۔

اس کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد سے ہونے والے حملوں کی تعداد اب تک کی سب سے زیادہ تھی۔

گذشتہ سال ستمبر میں فائرنگ کے 11 واقعات پیش آئے اور 2019 کے بعد سویڈن میں یہ مہلک ترین مہینہ تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *