April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
An Israeli mobile artillery unit fires a shell from northern Israel towards Lebanon, Thursday, Jan. 11, 2024. (AP Photo/Leo Correa)

مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئے ہوئے دو سینیٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے پاس ابھی ایک کھڑکی موجود ہے کہ وہ لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ کشیدگی کو کم کر لیں۔ اس سے پہلے کہ اسرائیل کی فوج لبنانی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف جارحانہ کاررواائیاں شروع کر دے۔ امریکی سینیٹروں نے بدھ کے روز یہ بات ‘ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ رائٹرز ‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

امریکی سینیٹر کرس کونز اور رچرڈ بلومینتھل نے بدھ کے روز لبنانی حکام کے ساتھ ملاقیں کی ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب خطے کو کشیدگی نے اپنے گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ صورت حال سات اکتوبر کے بعد سے جاری ہے۔ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں اب تک 29 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو ئے ہیں جبکہ اسرائیلیوں کی ہلاکتیں 1200 سے زائد ہیں۔ اس صورت حال نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر بھی کشیدگی بڑھا دیا ہے

2006 کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان پہلی بار اس شدت کے ساتھ کشیدگی جاری ہے۔ حزب اللہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہ کی حمایت میں اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنارہی ہے ۔جبکہ اسرائیل نے لبنان کے ساتھ سرحد کر حملوں کے علاوہ لبنان کے اندر تک کئی بار حملے کر کے درجنوں لبنانی ہلاک کر دیے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں سے 190 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلیوں کی ہلاکتیں اب تک لگ بھگ ایک درجن ہیں۔ دونوں طرف سے شہریوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی بھی کرنا پڑی ہے۔

سینیٹر کرس کونز نے کہا ‘اگلے چند ہفتے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ یہ ممکنہ صورت حال غزہ، اسرائیل، لبنان ، بحیرہ احمر ، عراق کے لیے بہت اہم ہو گی۔ تاہم غزہ میں جنگ بندی کے لبنان سمیت خطے پر مثبت اثرات ہوں گے۔ ‘

انہوں نے کہا اگلے دنوں میں علاقے کے لیے کھلنے والی کھڑکی 45 دنوں تک پھیلی ہو سکتی ہے۔ امکانی طور پر یہ رمضان کے دوران ہو گی۔ تاہم یہ قدم باہمی اعتماد کے پیدا ہونے سے متعلق ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 1701 پر عمل درآمد کی بھی صورت پیدا ہو جائے۔

واضح رہے 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کا اختتام اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے ہوا تھا حزب اللہ اور اسرائیل لبنان کی جنوبی سرحد پر کوئی مسلح گروپ لائے جائیں گے۔ مگر صرف لبنانی فوج سرحد پر رہ سکے گی۔

اسی ماہ کے شروع میں فرانس کی طرف سے ایک تحریری تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسرائیل اور لبناینی سرحد پر جاری کشیدگی کو سفارتی کوششوں سے کم کیا جائے۔ علاوہ ازیں امریکی نمائندہ آموس ہیوچیسٹئین بھی اسی سلسلے میں ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ سینیٹر کونز نے کہا امکانی طور پر یہ آگے بڑھے گا۔’ تاہم امریکی سینیٹر نے اس بارے میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کی ہیں۔

دونوں امریکی سینیٹروں نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپپیکر کے ساتھ بھی ملاقات کرتے ہوئے انہیں اس سارے پس منظر اور پیش منظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا یہ محض باتیں نہیں ہیں یہ ہونے جارہا ہے اس لیے یہ حزب اللہ کو بھی پیغام پہنچا دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *