April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
آثار الحريق في المنزل

سعودی عرب کے جنوبی علاقے سراۃ عبیدۃ کے ایک گھر میں آتشزدگی کے ایک المناک واقعے میں چار بچے ہلاک ہو گئے

سانحہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کے رشتہ دار علی بن محمد الحسنی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کا باپ علی بن مانع الحسنی سکول میں گارڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔

رشتہ دار کا کہنا تھا کہ اس کے کزن علی بن مانع الحسنی کے 9 بچے ہیں جن میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔

جس رات آگ لگی باپ کی اچانک آنکھ کھلی اس نے فوری طور پر سامنے نظر آنے والے ایک بچے کو اٹھایا اور اسے آگ سے بچاتے ہوئے پڑوسی کے گھر تک پہنچایا۔

بچوں کا باپ سکول میں گارڈ کی خدمات انجام دیتا ہے۔

بچوں کا باپ سکول میں گارڈ کی خدمات انجام دیتا ہے۔

رشتہ دار نے مزید بتایا کہ اس کا کزن بیٹیوں اوربیوی کو گھر سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا مگر جب وہ دیگربچوں کو بچانے کے لیے گھر کی جانب بڑھا تو آگ پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی جس کی وجہ سے وہ مکان میں داخل نہ ہو سکا۔

آتش زدگی کی اطلاع شہری دفاع کو دے دی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد سول ڈیفنس، پولیس اور دیگر ادارے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے امدادی کارروائی کا آغاز کیا ۔

آگ کی وجہ سے مکان میں دھواں بھر جانے کے باعث تین بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ چوتھے کو عسیر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ بھی جان کی بازی ہار گیا۔

آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے بچے

آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے بچے

رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بچوں میں مسفر دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ فراج دو سال اورعمر 5 برس کا تھا۔ تینوں بچے موقع پر ہلاک ہوگئے تھے جبکہ مانع جو چھٹی جماعت کا طالب علم تھا جو ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا تھا۔

سراۃ عبیدۃ کمشنری میں وزارت تعلیم کے ڈائریکٹر حسن بن محمد العلکمی، وزیر تعلیم یوسف البنیان نے سکول میں کام کرنے والے ملازم سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *