April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
شعار محكمة العدل الدولية في لاهاي يظهر قبيل انعقاد جلسة النظر في قضية الإبادة الجماعية ضد إسرائيل - فرانس برس)

بین الاقوامی عدالت انصاف [آئی سی جے] نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کی صورت حال کے حوالے سے اضافی عارضی اقدامات اٹھانے کی جنوبی افریقہ کی درخواست کے بارے میں فیصلہ جاری کیا ہے۔ جنوبی افریقا کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ حالیہ پیش رفت خطے کے لیے ایک “ڈراؤنا خواب” جس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

دی ہیگ میں قائم عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ “غزہ کی پٹی اور خاص طور پر رفح میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اس چیز کو بہت زیادہ بڑھا دے گی جو پہلے سے ہی ایک انسانی خوفناک خواب ہے جس کے علاقائی اثرات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔

‘کوئی اضافی اقدامات کی ضرورت نہیں’

عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ غزہ اور خاص طور پر رفح کی خطرناک صورتحال کو “26 جنوری کو عدالت کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں شامل عارضی اقدامات کے فوری اور موثر نفاذ کی ضرورت ہے جو غزہ کے تمام حصوں بہ شمول رفح پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے اضافی عارضی عبوری اقدامات جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت انصاف نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل “نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرنے کا پابند ہے۔ مذکورہ حکم (جنوری میں عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے) میں غزہ میں شہریوں کی جانوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی گئی تھی۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر درخواست

قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ نے گذشتہ جنوری میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس نےاسرائیل پر غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کاالزام عاید کیا تھا۔

گذشتہ منگل کو جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے عدالت سے اس بات پر غور کرنے کو کہا ہے کہ آیا “غزہ میں زندہ بچ جانے والوں کی آخری پناہ گاہ رفح میں اپنے فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف عدالت ہنگامی اقدامات کرے۔

جمعرات کو اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی تازہ ترین درخواست کے بارے میں اپنے مشاہدات عدالت میں پیش کیے اور کہا کہ اسے “افسوس ہے کہ جنوبی افریقہ ایک بار پھر عبوری اقدامات کے بارے میں عدالت کے فیصلے کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے”۔ جنوبی افریقہ درخواست اشارہ کرتی ہے کہ غزہ میں کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے حالانکہ غزہ کی صورت حال میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *