April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/naturlens.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے طبی اصلاحات کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ہڑتالی ڈاکٹروں کو اپنے کام پر لوٹنے کی بات دہرائی۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو اس منصوبے کے متبادل اور قابل عمل منصوبہ پیش کرنے کی بھی پیشکش کی۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے طبی شعبہ میں اصلاحات کی مخالفت کرنے والے طبی ماہرین کے گروہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت ان منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی جس کی مخالفت میں ڈاکٹروں نےایک ماہ سےہڑتال کر رکھی ہے۔‘‘ مجوزہ تربیتی اصلاحات کے خلاف ۲۰؍ فروری کو ہزاروں تربیتی ڈاکٹروں کے احتجاج میں واک آؤٹ کرنے کے بعد سے اسپتال اہم علاج اور آپریشن منسوخ کرنے پر مجبور ہیں، لیکن حکومت نے راستہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ 
جنوبی کوریا اگلے سال شروع ہونے والے میڈیکل اسکولوں کے داخلوں کو ۲؍ہزار تک بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کا مقابلہ کرنا اور تیزی سے عمر رسیدہ معاشرے کا علاج کرنا ضروری ہے۔ جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سےطبی خدمات کا معیار خراب ہوگا۔ یون نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے قومی خطاب میں کہا کہ ’’۲؍ ہزار کی تعداد کوئی بے ترتیب اعداد و شمار نہیں ہے جس کا ہم نے منصوبہ بنایا ہے۔ ہم نے متعلقہ اعداد و شمار اور تحقیق کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے اور موجودہ اور مستقبل کے طبی حالات کا جائزہ لیا ہے۔یہ اضافہ بھی دارالحکومت سیول سے باہر کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی ضرورتوں کیلئے ناکافی ہے۔‘‘

ہزاروں ڈاکٹروں کو اپنے میڈیکل لائسنس کی معطلی کا سامنا ہے، لیکن یون نے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ قانونی طریقہ عمل مکمل ہونے سے پہلے اپنےاسپتالوں میں واپس آجائیں۔ یکے بعد دیگرے جنوبی کوریا کی حکومتوں نے ماضی میں میڈیکل اسکولوں میں داخلے بڑھانے کی کوشش کی اور ناکام رہی، اور یون نے کہا کہ پچھلی ہر ناکامی سے ڈاکٹروں کا گروہ مضبوط ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم وہی غلطی دوبارہ نہیں دہرا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں کا سماج حکومت کا منصوبہ پسند نہیں کرتاہے، تو انہیں حکومت کو واضح سائنسی استدلال کے ساتھ ایک متفقہ خاکہ پیش کرنا چاہئے۔اگر وہ کوئی متبادل لائیں جو زیادہ قابل عمل اور معقول ہو، تو ہم کسی بھی وقت بات کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سویڈن اور جرمنی میں فلسطین حامی مظاہرہ، غزہ میں نسل کشی ختم کرنے کا مطالبہ

انتخابات اور اپوزیشن کی تنقید
جنوبی کوریا کے عوام اگلے ہفتے ہونے والے ایک اہم انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جس میں یون کی پارٹی پارلیمنٹ میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کی جاری ہڑتال میں عوام نے ابتدائی طور پر حکومت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا، لیکن حالیہ پولز نے اشارہ دیا ہے کہ عوامی نظریات میں تبدیلی آئی ہے۔ پیر کو ڈونگ اے البو پول میں سروے کئے گئے تقریباً ۶۰؍فیصد لوگوں نے کہا کہ حکومت کو اصلاحات کے پیمانے اور وقت کومرتب کرنا چاہئے۔ 
اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے یون کو ۲؍ ہزار کی تعداد پر بضد رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر زور دیا کہ وہ طبی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحاتی منصوبے کو مرتب کریں۔ حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمان شن ہیون ینگ نے کہا کہ ’’یون اور حکومت کو ۲؍ ہزار نشستوں کے اضافے کا اپنا جنون ترک کرنا چاہئے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *